ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مہاجرین کو یورپ میں محدود پناہ کی اجازت ملنی چاہے، دلائی لامہ

مہاجرین کو یورپ میں محدود پناہ کی اجازت ملنی چاہے، دلائی لامہ

Wed, 01 Jun 2016 17:44:51    S.O. News Service

دھرم شالہ،یکم جون (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے کہا ہے کہ یورپ نے بہت سے مہاجرین کو پناہ دی ہے لیکن ان مہاجرین کو مستقبل میں واپس اپنے وطنوں کو لوٹ کر اپنے اپنے آبائی ملکوں کی ترقی و تعمیر میں حصہ لینا چاہیے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دلائی لامہ کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ مہاجرین کو آخر کار اپنے آبائی وطنوں کو لوٹ جانا چاہیے تاکہ وہ واپس جا کر ملکی تعمیر نو اور ترقی میں اپنا حصہ ادا کر سکیں۔دلائی لامہ نے کہا، جب ہم کسی مہاجر کو دیکھتے ہیں، بالخصوص کسی خاتون یا بچے کو تو مہاجرت کے حقیقی دکھ کا اندازہ ہوتا ہے۔ دلائی لامہ خود نصف صدی سے جلا وطنی کی زندگی بسر کرتے ہوئے ہندوستان میں پناہ گزین ہیں۔اسّی سالہ دلائی لامہ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے افراد جو اچھے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ خوش قمست ہیں اور یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مہاجرین کا موجودہ بحران شدید تر ہو چکا ہے اور بے گھر لوگوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔جرمن اخبار فرنکفرٹر الگمائنے سائٹنگ سے گفتگو میں دلائی لامہ کا یہ بھی کہنا تھا، مثال کے طور پر جرمنی ایک عرب ریاست نہیں بن سکتا۔ مسکراتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جرمنی تو جرمنی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یورپ آنے والے مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے، جس سے انتظامی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔دلائی لامہ کا کہنا تھا کہ اخلاقی طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان مہاجرین کو صرف عارضی طور پر پناہ دی جانا چاہیے، مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بعد ازاں یہ مہاجرین اپنے اپنے ممالک واپس جائیں اور وہاں تعمیر نو کے کاموں میں حصہ لیں۔گزشتہ برس جرمنی میں 1.1ملین مہاجرین اور تارکین وطن پناہ حاصل کرنے کے لیے آئے تھے۔ ان مہاجرین میں مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ ملکوں شام اور عراق کے شہریوں کے علاوہ افغانستان، پاکستان اور دیگر ممالک کے باشندے بھی شامل تھے۔دلائی لامہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ وہ اپنے آبائی وطن تبت جانا چاہتے ہیں، اگر میری واپسی کی کوئی امید پیدا ہوئی تو شائد کچھ سالوں بعد میں تبت جاؤں گا۔ کم ازکم ایک چھوٹے سے دورے کے طور پر بھی، یہ میرے لیے خوشی کا باعث ہو گا۔


Share: